Skip to main content

Featured

"Essential Measures for Strengthening the Export Sector"

Written By : Aamir Baig   Prime Minister of Pakistan Shahbaz Sharif has set a target to increase Pakistan's exports to $60 billion within three years. During a recent meeting of the National Export Development Board, he stressed the importance of addressing exporters' challenges, promising to personally oversee the board's progress every six weeks. His focus includes boosting agricultural exports through better seeds and high-yield crops, and reducing power costs for industries. However, despite this commitment, no significant action has been taken since the meeting. Relevant government departments have yet to engage stakeholders or address the problems exporters face. This delay is particularly concerning given that the recent federal budget imposed additional taxes on the export industry, frustrating industry leaders and trade organizations. The textile sector, responsible for over 60% of Pakistan's exports, exemplifies the challenges. The knitwear industry, a major p...

سی بی ڈی آئل یا ڈالرز کی مشین ؟

تحریر : عامر بیگ 





سی بی ڈی آئل کیا ہوتا ہے ؟ 
یہ کیسے بنایا جاتا ہے ؟ اس کالم کے مکمل پڑھنے کے بعد آپکو یہ معلوم ہوجائے گا۔ 
دنیا میں زراعت بہت جدید ہوتی جارہی ہے۔ 
پاکستان میں روایتی طریقے سے فصلوں کی کاشت ہورہی ہے۔ اور چند مخصوص فصلیں ہی کاشت ہورہی ہیں۔ 
ان تصاویر میں نظر آنے والے سسٹم کو ہائیڈروپونک کہا جاتا ہے۔ 
اور نظر آنے والے پودے بھنگ کی ایک قسم ہے۔ 
جس کو کنٹرول انوائرمنٹ میں کاشت کر کے بے شمار زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ 
اب حکومت پاکستان کے ذیلی ادارے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام ایک ایکڑ میں بھنگ کے کم و بیش دو سے چار ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔ جس سے بے شمار پروڈکٹس بن سکتی ہیں۔ بس مثال کے لیے اتنا بتا رہا ہوں۔ 
بھنگ کی ایک ایکڑ کاشت کنٹرول انوائرمنٹ میں 
سے تقریباً آٹھ لیٹر تک سی بی ڈی آئل مل سکتا ہے۔ اور ایک لیٹر سی بی ڈی آئل کی انٹرنیشنل پرائس دولاکھ پاکستانی روپے ہے۔ اور یہ فصل ہائیڈروپونک سسٹم میں تین سے چار ماہ میں مکمل تیار ہو جاتی ہے۔ 
حکومت پاکستان اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں۔ کامیاب ہو چکا ہے۔ جس کے لیے تمام پاکستانیوں کو مبارک ہو۔ 
آپ اندازہ لگائیں اگر ہم پاکستان کے کم و بیش  ایک سو مختلف اضلاع میں صرف دس دس ایکڑ کے ہائیڈرو پونک سسٹم لگا کر  بھنگ کی کاشت کریں۔ تو صرف اور صرف دس ایکڑ سے ہم تقریبا اسی لیٹر سی بی ڈی آئل حاصل کرسکتے ہیں۔ 
تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریبا ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپوں سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ 
اور ہائڈروپونک سسٹم کی لاگت تقریبا بیس سے چالیس لاکھ فی ایکڑ تک ہوسکتی ہے۔ 
اگر ہم چائینز کمپنیز کو رعایتیں دیں تو بے شمار مقابلہ ساز کمپنیز کی پاکستان آمد سے 
یہ ہائیڈروپونک سسٹم کی لاگت نصف بھی ہوسکتی ہے۔ 
اگر نیت صاف اور ارادہ مصمم ہوتا سب کچھ ممکن ہے۔ 
اس کا کریڈٹ سابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری صاحب کو جاتا ہے۔ جنھوں نے اپنے دور میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جیسی ہومیوپیتھک وزارت میں بہت زبردست کام کیا۔ موجودہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جناب شبلی فراز نے اس کام کو آگے بڑھایا ہے۔ 
آخر میں ایک درخواست ہے کہ عوام کو بھی روایتی کاشتکاری کے ساتھ ساتھ غیر روایتی فصلیں بھی کاشت کرنی چاہییں ۔۔ تاکہ ہم زیادہ پیسہ کمائیں۔ اور ملک پاکستان میں زیادہ زر مبادلہ لایا جاسکے۔ 

Comments

Popular Posts