خیبرپختونخوا کے بلدیاتی الیکشن فیز ون میں کافی اپ سیٹ ہوئے۔
پی ٹی آئی کے مخالفین پھریرے لہراتے ہوئے باہر
نکل آئے۔
جب کہ وزیراعظم عمران خان نے ناکامیوں سے سیکھنے اور دوبارہ بھرپور قوت میں آنے کا عزم کیا۔
اب ہم جائزہ لیتے ہیں پی ٹی آئی کی ناکامی میں کون کون سے عوامل شامل ہیں۔
کچھ تجزیہ نگار تو اپوزیشن کے بیانیے کی مقبولیت کی نشاندھی کررہے ہیں۔
حقیقت کیا ہے۔ آئیے درجہ بدرجہ تمام اہم عوامل کا جائزہ لیتے ہیں۔
دو ہزار اٹھارہ
کے الیکشن میں پاکستانی تاریخ میں پہلی دفعہ
خیبرپختونخوا نے دو دفعہ مسلسل ایک ہی جماعت پی ٹی آئی کو ہی اقتدار سونپنے کا فیصلہ کیا۔ اور سونے پر سہاگہ پہلی دفعہ پی ٹی آئی معمولی نشستوں کے ساتھ اتحادی حکومت
بنانے میں کامیاب ہوئی ۔
اور دوسری دفعہ کمال کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔
پشاور جیسے شہر میں تقریبا کلین سویپ کرلیا۔ مگر حالیہ بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو پشاور میں بڑا دھچکا لگا ہے۔
جے یو آئی ایف نے پشاور میئر کی سیٹ جیت کر سب کو حیران کردیا ہے۔ کم سے کم اس جیت کے بعد فضل الرحمان صاحب کا دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کی سیلیکشن کا بیانیہ مکمل فیل ہو گیا۔
مگر اب پی ٹی آئی جماعت ، ووٹر اور سپورٹر تمام لوگ ششدر ہیں۔ کہ آخر صحت انصاف کارڈ ، بی آر ٹی پشاور ، اور خیبر پختونخوا میں موٹرویز کے جال کے باوجود پی ٹی آئی بلدیاتی الیکشن کا پہلا میچ کیوں ہار گئی؟۔
اس میں کئی عوامل شامل ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔
مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ مہنگائی کا مسئلہ عالمی ہے۔ اور اس میں آئندہ سال تک کافی نرمی ہو جائے گی۔ مگر پی ٹی آئی اراکین اسمبلی حلقے میں مہنگائی کے ڈر سے جانےسے کتراتے رہے۔ اور پی ٹی اراکین اسمبلی کا تعلق بڑی حد تک عوام سے کٹ کے رہ گیا۔
پھر ٹکٹوں میں بھی کوئی طریقے کار مؤثر نہیں ہوا۔ بہت ساری جگہوں پر پی ٹی آئی کے دو دو ، تین تین امیدوار باہم مدمقابل تھے۔ نتیجے میں پی ٹی آئی کا سارا ووٹ منقسم ہو گیا۔ اور مخالفین جیت گئے۔
دراصل پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی نے ہروا دیا ہے۔
پھر مسئلہ آتا ہے بے روزگاری کا ۔ یہاں بھی صورتحال پی ٹی آئی کے خلاف رہی۔ پی ٹی آئی نے کامیاب جوان اور کامیاب پاکستان پروگرام شروع کیے ہیں۔ مگر انکی رفتار انتہائی سست ہے۔ اس میں مسئلہ یہ ہے
پی ٹی آئی نے انتہائی غریب لوگوں کو شامل کیا ۔ یہ تو اچھی بات ہے۔ مگر اس میں مڈل کلاس لوگوں کوشامل نہ کرنا غلط ہے۔
اکثر مڈل کلاس نوجوان
بغیر سود قرضے کے خواہشمند ہیں۔ مگر جب انھوں نے رابطہ کیا تو بتایا گیا۔ یہ پروگرام صرف احساس کفالت میں شامل افراد کے لیے ہے۔
اس سے بغیر سود قرضے ملنے کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔
وزیراعظم عمران خان کو بغیر سود قرضہ
کے لیے غریب اور مڈل کلاس دونوں طبقات کے لیے آسانی کرنا ہوگی۔ تاکہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت کو بہترین کاروبار کے مواقع مل سکیں۔
پھر بات ہوگی اس احتساب کی جس پر پی ٹی آئی نے جنرل الیکشن میں کیمپین کی تھی۔
چند ایک کو چھوڑ کر کوئی موثر احتساب نہ ہوسکا۔ چند لوگوں کو وی آئی پی جیلوں میں خانہ پری کے لیے رکھا گیا۔
اسکے بعد کرپٹ مافیا وکٹری کے نشان بناتے ہوئے جیلوں سے رہا ہوئے۔ اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس پورے سسٹم پر زناٹے دار تھپڑ رسید کردیا۔
اور پیسے کے بل بوتے پر میڈیا میں بھی اپنے حق میں جھوٹ سچ مکس کر کے جان بوجھ کر اتنی دھول اڑائی گئی۔ کہ لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں ہی کنفیوز کردیا گیا۔
چند ایک کو چھوڑ کر کسی بڑے لٹیرے سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔ کراچی میں نسلہ ٹاور تو گرادیا گیا۔ مگر حقیقت میں ان لٹیروں کے کمپلیکس گرانے چاہیے تھے جو بڑے بڑے ڈاکو تھے۔ مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا۔
اور پی ٹی آئی کا وہ نعرہ دو نہیں ایک پاکستان بری طرح ایکسپوز ہو گیا۔
نسلہ ٹاور کراچی غریب عوام کا تھا۔ سو گرادیا گیا۔ اور بڑے بڑے ڈاکوؤں کے محلات ، کمپلیکس آج بھی قائم و دائم ہیں۔
اب آتے ہیں میڈیا کی جانب۔
مریم صفدر اعوان کی ایک آڈیو لیک ہوتی ہے۔
جس میں میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود کا نام لیا جاتا ہے۔
اور بدلے میں ان دونوں افراد کی جانب سے کوئی تردید بھی نہیں آتی۔
اور تو اور ن لیگی دور حکومت میں جن دو چینلز کو سب سے زیادہ سرکاری اشتہارات دیے گئے۔ ان میں جیو نیوز گروپ ، اور دنیا نیوز گروپ شامل تھا۔ اور عمران خان کی سیاست تو ایک طرف ذاتی حملے بھی ان دونوں چینلز کی طرف سے خوب کیے گئے۔
پی ٹی آئی حکومت نے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنائی تھی۔
جس میں فیک نیوز کے خلاف سخت اور بھاری جرمانے کیے جانے ہیں۔ یہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا بھی ابھی کچھ اتا پتا نہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب آپ پورے پاکستان میں دودھ کی نہریں بھی بہا دیں گے۔ تو میڈیا ایسی فیک نیوز کی اندھی چلائے گا۔ کہ لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آ نا۔ فوری میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنائیں۔ اور امریکہ ، انگلینڈ جیسے سخت قوانین اور جرمانے فیک نیوز پر لگائیں۔
اب آتی ہے وہ تکلیف دہ بات جس سے ہر پاکستانی مسلسل ڈسا جارہا ہے۔ مگر افسوس آپکو اوپر سب اچھا بتایا اور دکھایا جارہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان صاحب ، تمام سرکاری اداروں میں کرپشن بدستور جاری ہے ۔ بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔
واپڈا ، سوئی گیس میں آج کی جدید دور میں بھی بغیر رشوت کے میٹر نہیں لگ رہے۔ بھاری جیب گرم کریں تو میٹر فوری لگتے ہیں۔ ورنہ ہر چھے ماہ بعد اگلے چھے ماہ کا انتظار کرنے کی نوید سنادی جاتی ہے۔ بلدیات کا ادارہ کرپشن میں لت پت ہے۔ پولیس اور عدلیہ تو ہیں ہی پیسے کی مشینیں۔
جب
تک پیسہ ڈالتے رہیں آپ کا کام حرکت میں رہےگا۔ اور جیسے ہی پیسہ بند تو سب کچھ بند۔
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی سفارت خانے آج بھی کرپشن کے گڑھ ہیں۔ ایک دوست نے بتایا متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے اندر جانے کے لیے باہر گارڈ کو پچاس یا سو درہم دینا پڑتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اندر جو طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے۔ اللہ کی پناہ۔
خان صاحب دیار غیر میں محنت کش پاکستانیوں کو آپکے اپنے سفارخانے لوٹ رہے ہیں۔ کیا کوئی آنلائن سسٹم اس جدید دور میں سفارتخانے
کی اپوائنٹمنٹ کے لیے نہیں بن سکتا ؟
سب کچھ ممکن ہے اگر نیت صاف ہو۔
خان صاحب صرف گن کر دس سرکاری ادارے
واپڈا ، سوئی گیس ، تعلیم ، بلدیات ، ایف بی آر ، زراعت ، پولیس ، عدلیہ ، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی سفارت خانے اور پٹواری سسٹم جن سے تقریبا روز عوام کا سامنا ہوتا ہے۔ آپ انکو زیرو کرپشن کردیں ۔ اور پنجاب کی سو تحصیلوں میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ہنگامی دوروں کا حکم دیں ۔ ہر پنجاب کی تحصیل میں بلدیاتی الیکشن سے پہلے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو دو دو تین تین دفعہ ہنگامی دورے کرنا ہوں گے ۔ پہلے تو عثمان بزدار جیسے سادہ اور شریف انسان کو پنجاب جیسے اکھڑ صوبے کی وزارت اعلی دینا غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا ۔ مگر اس ٹائم پنجاب میں وزیر اعلیٰ تبدیل کرنا بھی سنگین غلطی ہو گا ۔ اب آپکو اسی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ہی کام لینا ہو گا ۔ پنجاب میں وہ تحصیلیں جس میں پی ٹی آئی کی پوزیشن کمزور یا انتہائی کمزور ہے وہاں پر خصوصی فوکس کرنا ہو گا ۔ پھر اگلے الیکشن میں آپ دو تہائی اکثریت حاصل کرسکتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو
یاد رکھیں آپ تو اپنی شکست افورڈ کر ہی لیں گے۔ مگر دس کروڑ سے زیادہ امید بھری نگاہیں لیے نوجوان آپکی شکست افورڈ نہیں کرسکتا۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سٹیٹس کو کے چنگل میں قید ہو جائے گا۔
آخر میں اللہ سے دعا بھی ہے اور امید بھی کہ میرا پاکستان خوشحال ، ایماندار ،، جدید ترقی یافتہ اور فلاحی اسلامی ملک بنے ۔
اور وزیراعظم عمران خان کی جان ، حکومت ،کی حفاظت ہو۔ اور وزیراعظم عمران خان کو عوام کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
100% true
ReplyDelete