تحریر : عامر بیگ اسی ماہ دسمبر میں سعودی عرب میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی سعودی قیادت سے ملاقات ہوئی۔ اور دوطرفہ قیادت نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
تقریبا زیادہ تر اسلامی دنیا میں سعودی عرب کو اسلامی لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ مگر اس لیڈر نے فرانسیسی صدر کو خوش آمدید کہ کر
باہمی دلچسپی کے امور پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ سازی کو بھی بڑھایا۔
مگر ہمارے ملک پاکستان جس میں بابا فرید رحمتہ اللہ ، سیدنا علی ہجویری رحمۃ اللہ ،
سیدنا عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر جیسے بزرگ صوفی ہستیوں کے مزارات ہیں۔ جن کی ساری زندگی محبت سے ہی کفار کو دائرہ اسلام میں لانے کے لیے صرف ہوئی۔
پتا نہیں یہ متشدد عنصر کیوں اور کیسے ہمارے سلامتی والے دین اسلام میں آگیا؟ ۔
اب سیالکوٹ میں مارے جانے والے سری لنکن شہری کے عزیز و اقارب کو ہم کیسے بتائیں گے
کہ لفظ اسلام کا مطلب سلامتی اور امن ہوتا ہے۔
اسلام کو کفار سے زیادہ نقصان مسلمانوں نے پہنچایا۔ یہ بھی کافر وہ بھی کافر کے نعرے لگائے گئے۔
میں جب سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کرتا ہوں۔
مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم انتہائی حلیم اور شفیق ترین باپ کی مانند معلوم ہوتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک کافر جان بوجھ کر مسجد نبوی شریف میں قضائے حاجت کرتا ہے۔ تاکہ مسلمانوں کو تنگ کر سکوں۔
جب وہ مسجد نبوی میں گندگی پھیلارہا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کو منع کرنے کے لیے دوڑنے لگے۔ مگر پیارے نبی محترم نے صحابہ کو روکا۔ اور جب وہ کافر اپنی شرارت مکمل کر چکا۔ تو پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی پیار سے اسکو سمجھایا یہ اللہ کا مقدس گھر ہے۔ یہاں پر تقدس کو پامال نہیں کیا جاتا۔ وہ کافر آپ کی محبت اور اخلاق سے اتنا متاثر ہوا کہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ اور آج ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو کیا ہم اس نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہیں؟ جنھوں نے کفار کو بھی اخلاق سے متاثر کیا۔
توہین رسالت کا قانون ایک ضروری چیز ہے۔
مگر کیا توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال توہین رسالت نہیں ہے ؟
توہین رسالت کے قانون کو ختم کروانے کے لیے
اندرون و بیرون ملک بہت ساری سازشیں جاری ہیں۔ کیا ان نام نہاد اسلام پسندوں نے ان سازشیوں کو جان بوجھ کر موقع فراہم نہیں کردیا۔
جب ابلیس نے حکم خداوندی کے سامنے جھکنے کی بجائے اکڑ گیا ۔ تو اللہ رب العزت کے لیے کتنا آسان تھا کہ فوری ابلیس کو مار دیتا اور یہ جو شیطانیت آج محو رقص ہے۔ یہ سلسلہ پیچھے ہی قصہ پارینہ بن جاتا۔ مگر اللہ
رب العزت نے ایسا نہیں کیا۔ وقت دیا ابلیس کو۔ اپنی شان درگزر سے کام لیا۔
ہائے کیسا پیارا نبی اللہ نے چن کر ہمیں تاجدارِ ختم نبوت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ کی صورت عطا کیا ۔ مگر ہم نے رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور اخلاقیات کی قدر نہ کی۔
وہ مکے کی بڑھیا جو پیارے نبی پر کوڑا پھینکتی تھی۔ آج کے دور کے عشاق رسول ہوتے۔ تو جانے کب کی قتل ہو چکی ہوتی۔
مگر
افسوس ! تاجدارِ ختم نبوت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہم شرمندہ ہیں۔
ہم نے آپ کے لائے ہوئے خوبصورت دین اسلام کو اغیار کے سامنے مذاق بنا کے رکھ دیا۔
اے اللّٰہ کریم ، اے رسول کریم ، ہم شرمندہ ہیں۔ ہم شرمندہ ہیں۔ ہمیں معاف کردیا جائے۔ 😔😔
Comments
Post a Comment