آزاد کشمیر الیکشن میں پی ٹی آئی
کو تاریخی کامیابی ملی۔ وفاقی وزرا مراد سعید اور علی امین گنڈا پور نے مخالفین پر تاک تاک کر نشانے لگائے۔
اور وزیراعظم عمران خان کی کشمیر میں اینٹری نے زبردست کردار ادا کیا۔ مگر رکیے ایک اور کردار بھی بہت اہم تھا۔ وہ کردار ہے محترمہ مریم صفدر صاحبہ ۔
کمال کی بات ہے محترمہ مریم صفدر صاحبہ جہاں بھی جاتی ہیں۔ ن لیگ کی کمر توڑ کر رکھ دیتی ہیں۔
کیونکہ نوازشریف خاندان کا بیانیہ ریاست اور عوام کے لیے تکلیف دہ اور ناقابل قبول ہے۔
عوام سوال پوچھتی ہے کہ وہ کون سی مجبوری تھی ۔ کہ نواز شریف کو کشمیر الیکشن پولنگ ڈے سے چند دن پہلے محب حمد اللہ افغانی جیسے
شخص سے ملاقات کرنا پڑی۔
آپ پاک فوج کو ہر دوسرے دن طعنے دیتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ پاک فوج نے پورے پاکستان میں انڈین فنڈڈ دہشتگردی سے کیسے نمٹا ہے ۔ کتنی ماؤں کے بیٹے دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اور تو اور کشمیر الیکشن میں پولنگ ڈے پر بھی پاک فوج کے پیاروں نے لہو کے نذرانے پیش کیے۔
نواز شریف اور دختر نوازشریف کس بیانیہ ملک دشمنی پر مبنی ہے۔ جس کو عوام میں سخت ناپسند کیا گیا۔ اور ہم نے حال ہی میں کشمیر الیکشن میں اسکا عملی مظاہرہ دیکھ بھی لیا ہے۔
کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ نوازشریف اور مریم صفدر اعوان کو یہ علم ہے کہ اب ن لیگ کبھی بھی اقتدار میں نہیں آ سکتی ۔ کیونکہ نوازشریف خاندان کے خلاف ٹھوس کرپشن ثبوت مل چکے ہیں۔
اس لیے نوازشریف اور مریم صفدر اعوان صاحبہ چاہتی ہیں کہ کھیل اتنا زیادہ بگاڑ دیا جائے۔ کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو بھی جڑ سمیت اکھاڑ کر کھیل سے باہر کیا جائے۔
میں نے پولنگ ڈے سے چند دن پہلے اپنے کالم میں یہ لکھا تھا کہ پی ٹی آئی دودرجن سے زائد نشستیں جیت کر کشمیر میں حکومت سازی کرے گی۔ اور اب بالکل ویسے ہی ہوا ۔
آزاد کشمیر الیکشن میں کپتان عمران خان نے زبردست تقریریں کی۔ کپتان عمران خان نے
کشمیری حریت رہنماؤں سید علی گیلانی اور یاسین ملک کا نام لے کر انکی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ اور دوسری جانب پورے آزاد کشمیر کو ہیلتھ کارڈ جیسی زبردست سہولت دینے کا وعدہ بھی کیا۔
اور اس سال کے آخر تک مہنگائی ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان بھی کیا۔
اوور آل کپتان عمران خان نے آزاد کشمیر کی عوام کی امیدوں کے مطابق باتیں کی۔ جب کہ دوسری جانب مریم صفدر اعوان صاحبہ کی تقاریر مکمل طور پر کنفیوز تھی۔ ان کو خود بھی علم نہیں تھا کہ انھوں نے بولنا کیا ہے۔ کبھی کہتی ہیں کہ میں کشمیر میں ووٹ مانگنے نہیں آئی سیر کرنے آئی ہوں۔ کبھی کہتی ہیں کہ میں عمران خان کا نام نہیں لوں گی۔ اور ہر دوسرے منٹ میں عمران خان کو برا بھلا بولنا شروع کردیتی تھیں۔ مکمل طور پر عوام نے مریم صفدر اعوان صاحبہ کی تقاریر کو مسترد کردیا۔
محترمہ مریم صفدر اعوان صاحبہ کو جب نوازشریف نے آزاد کشمیر الیکشن کی مہم سونپی تب پی ٹی آئی کی جانب سے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
کیونکہ پی ٹی آئی جانتی تھی کہ جہاں پر بھی محترمہ مریم صفدر اعوان صاحبہ کے مبارک قدم پڑتے ہیں۔ وہاں پر الحمدللہ پی ٹی آئی ہی فاتح بن کر سامنے آتی ہے۔
اب چونکہ پی ٹی آئی نے کشمیر میں سادہ اکثریت ظاہر کرکے حکومت سازی کی طرف جانا ہے۔
لہذا اب کپتان عمران خان پر بھاری ذمےداری عائد ہوتی ہے۔ کہ وہ کشمیری عوام کی زندگیاں آسان کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ اور آزاد کشمیر میں بے روزگاری کا خاتمہ ، کرپشن کے خلاف سخت اقدامات اور نئی موٹرویز کا جال بچھایا جائے۔ تاکہ ملک بھر سے عوام سیاحت کے لیے آزاد کشمیر میں آسانی اور محفوظ طریقے سے جائے۔
Comments
Post a Comment