تحریر: عامر بیگ
پچیس جولائی دو ہزار اکیس کہنے کو تو ایک
عام سی تاریخ ہے۔
مگر حقیقت میں یہ تاریخ کشمیریوں کے لیے تاریخ ساز ہونے جارہی ہے۔
کشمیر میں الیکشن کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں اور دھڑوں نے اپنا بھرپور زور لگایا۔ ن لیگ کی مرکزی رہنما اور نوازشریف کی دختر مریم صفدر اعوان اور پیپلز پارٹی کی جانب سے آصفہ زرداری نے اپنے اپنے ساتھیوں کی کیمپین میں حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کی طرف سے وفاقی وزرا مراد سعید اور علی امین گنڈا پور نے کافی ٹف ٹائم دیا۔ پھر سونے پر سہاگہ
کپتان عمران خان کی کشمیر
الیکشن میں اینٹری نے کشمیر کا الیکشن تقریباً یکطرفہ کردیا ہے۔۔ ن لیگ نے کشمیر الیکشن کے چالیس سے زائد حلقوں میں صرف درجن بھر کے لگ بھگ امیدوار کھڑے کرکے الیکشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے ن لیگ سے بھی کم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ جبکہ ممکنہ طور پر حکومت بنانے کی دعویدار پی ٹی آئی نے تقریبا تمام حلقوں میں ہی اپنے امیدوار کھڑے کیے ۔ اس سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے پی ٹی آئی ذہنی طور پر کشمیر حکومت سازی کیلئے کتنی تیار ہے۔
لوکل ذرائع سے ملنے والے خبروں کے مطابق پی ٹی آئی دو درجن سے زائد سیٹوں پر میدان مار کے حکومت بنالے گی۔
اب دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے الیکشن میں کس کس جماعت کا کڑا مقابلہ ہو گا۔
کچھ حلقوں پر پی ٹی آئی سے ن لیگ کا سخت مقابلہ ہو گا۔ مگر کچھ سیٹوں پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا بھی دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے کے لیے زبردست مقابلہ ہونے کا بھی امکان ہے۔
اب روشنی ڈالتے ہیں ۔ کشمیر الیکشن میں کس جماعت کے لوگوں نے کشمیریوں کو کیا کیا دعوے کیے ۔ تو سب سے پہلے نمبر پر ن لیگی قائد نوازشریف کی دختر محترمہ مریم صفدر اعوان صاحبہ ہیں۔ جنھوں نے منہ بھر کے نوازشریف کو کشمیر کا بیٹا ہی قرار دے دیا۔
کشمیریوں کی اکثریت اتنی بھولی بھی نہیں ہے۔ جتنا مریم صفدر اعوان صاحبہ نے سمجھ لیا تھا۔ کشمیر کاووٹر
مکمل عقل و شعور رکھتا ہے۔
کشمیر کا ووٹر جانتا ہے کہ کس طرح نوازشریف نے اپنے دور حکومت میں حریت رہنماؤں کو ناراض کیا۔ کشمیر کا ووٹر جانتا ہے کس طرح کشمیریوں کا جانی دشمن نریندرا مودی رائے ونڈ میں نوازشریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کرتا ہے۔ کشمیر کا ووٹر جانتا ہے
کس طرح نوازشریف کلبھوشن یادیو کو دہشت گرد بولنے سے ہچکچاتا ہے۔ کشمیر کا ووٹر جانتا ہے نوازشریف نے کشمیریوں سے رابطہ صرف الیکشن کی حد تک محدود رکھا ہے۔ ایک اور چیلنج بھی ہے کہ نوازشریف اور دختر نوازشریف کبھی بھی
نریندرا مودی کو آر ایس ایس کا ایجنٹ نہیں بول سکتے۔ کیونکہ نوازشریف ، مودی کو کبھی
بھی ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را کے فنانسر سجن جندال کے ساتھ شریف خاندان کے مراسم تو ساری دنیا ہی جانتی ہے۔
اور تو اور اسرائیل ، نریندرا مودی اور نوازشریف کا گٹھ جوڑ بھی سامنے آگیا۔ اسرائیلی سپائی ویئر پیگاسس نے نوازشریف کے دور حکومت میں نوازشریف کے مخالفین عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے موبائل فون ہیک کرنے کے لیے نریندرا مودی کے ذریعے مدد کی۔ اور تو اور پاکستانی عسکری افراد کی بھی جاسوسی کر کے نوازشریف
نے اپنے آپ پر خود ہی سوالیہ نشان لگا لیا۔
مزید یہ کہ محترمہ مریم صفدر اعوان صاحبہ کے پاس سوائے عمران خان کو برا بھلا بولنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مریم
صفدر اعوان صاحبہ کے اندر
خاندانی بادشاہی سوچ کے عین مطابق کشمیریوں کو جلسے میں سٹ اینڈ سٹینڈ کروا کے تسکین حاصل کرتی رہیں ۔ جس سے انکے مائنڈ سیٹ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اس لیے لگتا تو یہی ہے کہ کشمیر میں بھی پی ٹی آئی اپنی حکومت آسانی سے بنا لے گی۔
کپتان عمران خان نے کشمیریوں کے لیے ابھی سے ہی زبردست فیصلے کر لیے ہیں جس میں ہیلتھ کارڈ سے لے کر سیاحت کا ایک مربوط نظام آنے کا بھرپور امکان ہے۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے درجن بھر امیدواروں کے ساتھ پہلے ہی شکست کی تیاری کر چکے ہیں ۔ جس کے فوری بعد دھاندلی دھاندلی کے گیت گائے جائیں گے۔ مگر حقیقت میں اب دھاندلی کامنجن اتنی آسانی سے نہیں فروخت ہو گا۔ کشمیر کا ووٹر مکمل چالبازیاں سمجھ چکا ہے۔
Awesome Writer
ReplyDeleteInteresting
ReplyDelete