Skip to main content

Featured

"Essential Measures for Strengthening the Export Sector"

Written By : Aamir Baig   Prime Minister of Pakistan Shahbaz Sharif has set a target to increase Pakistan's exports to $60 billion within three years. During a recent meeting of the National Export Development Board, he stressed the importance of addressing exporters' challenges, promising to personally oversee the board's progress every six weeks. His focus includes boosting agricultural exports through better seeds and high-yield crops, and reducing power costs for industries. However, despite this commitment, no significant action has been taken since the meeting. Relevant government departments have yet to engage stakeholders or address the problems exporters face. This delay is particularly concerning given that the recent federal budget imposed additional taxes on the export industry, frustrating industry leaders and trade organizations. The textile sector, responsible for over 60% of Pakistan's exports, exemplifies the challenges. The knitwear industry, a major p...

افغانستان: دو ہزار ارب ڈالرز بھسم

تحریر: عامر بیگ 






امریکہ نے دو ہزار ارب ڈالر بیس سال میں افغان جنگ میں بھسم کردیے۔ 
یقین کریں افغانستان کے پڑوسی ممالک پاکستان ایران تاجکستان ازبکستان ترکمانستان اور افغانستان میں سو ارب ڈالر فی ملک سرمایہ کاری کردیتا تو یہ سارا خطہ امریکی زیر اثر ہوتا۔  اور تمام ممالک امریکی شکر گزار بھی ہوتے۔ سو ارب ڈالر صرف افغانستان میں انویسٹ کرنے سے ایک بھی دہشت گرد نہ رہتا۔ 
سب کے پاس اتنا پیسہ ہوتا۔ دہشت گردی کاوقت ہی کسی کے پاس نہیں ہونا تھا۔ 
چین نے پاکستان میں سی پیک کے بینر تلے کم و بیش پچاس ارب ڈالر انویسٹ کیے ہیں۔ 
پورا پاکستان پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگا رہا ہے۔ 
ایک سو ارب ڈالر سے افغانستان کا انفراسٹرکچر بہتر ہو سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ 
کروڑوں افراد کے لیے روزگار کے وسیع مواقع ہوتے۔ مگر امریکہ کی گردن میں سریا ہمیشہ سے ہی موجود رہتا ہے۔ 
جی بالکل وہی سریا جو انسان کو عرش سے فرش 
تک پٹخ پٹخ کے مارتا ہے۔ 
اللہ کریم فرماتے ہیں اس کائنات میں میری
نشانیاں بکھری پڑی ہیں۔ تلاش کرنے والوں کو
واضح محسوس ہوتی ہیں۔ 
افغانستان میں کم و بیش دو ہزار ارب ڈالرز
کی قیمتیں معدنیات پوشیدہ ہیں۔ 
اب ان سب چیزوں سے چین فائدہ اٹھائے گا۔ 
چین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ 
جنگ کی بجائے سرمایہ کاری پر فوکس کرتا ہے۔ 
نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغان جنگ کا اعلان کردیا۔ 
اس دوران چین نے خاموشی کے ساتھ اپنی معیشت پر فوکس کیا۔ اور چین کو معاشی میدان میں دنیا بھر میں اول مقام پر پہنچا دیا۔ 
امریکی عوام کو اپنی حکومت سے یہ سوال تو پوچھنا چاہیے نہ کہ بیس سالوں میں دو ہزار ارب ڈالر جو افغان جنگ میں فضول جھونک دیا تھا۔ وہی رقم امریکہ اپنے شہریوں کی فلاح وبہبود پر لگاتا تو امریکہ اتنا ترقی یافتہ ہوتا کہ دور دور تک اس کے کوئی بھی مدمقابل نہ ہوتا۔ 
افغان جنگ میں امریکہ اور بھارت کو سوائے رسوائی کے کچھ نہ ملا۔ 
سب ممالک کے لیے افغان جنگ سے سبق حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ 
پاکستان اور افغانستان جس اہم جگہ پر واقع ہیں۔ وہاں سے پورے ایشیا کا تجارتی حب بنایا جاسکتا ہے۔ 
چین اس ساری صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔ 
لہذا تھوڑا انتظار کریں۔ چین افغانستان ، ایران ، پاکستان اور تمام وسطی ایشیائی ممالک بشمول روس کے زبردست کاروباری 
شراکت دار بنا دےگا۔ 
اب راج کرے گا ایشیا ۔ اب تجارت کا عروج ہو گا۔ 
امریکہ کو بھی چاہیے کہ افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے۔ اور افغانستان کی تعمیر و ترقی میں آسانیاں پیدا کرے۔ 

Comments

Popular Posts