Skip to main content

Featured

"Essential Measures for Strengthening the Export Sector"

Written By : Aamir Baig   Prime Minister of Pakistan Shahbaz Sharif has set a target to increase Pakistan's exports to $60 billion within three years. During a recent meeting of the National Export Development Board, he stressed the importance of addressing exporters' challenges, promising to personally oversee the board's progress every six weeks. His focus includes boosting agricultural exports through better seeds and high-yield crops, and reducing power costs for industries. However, despite this commitment, no significant action has been taken since the meeting. Relevant government departments have yet to engage stakeholders or address the problems exporters face. This delay is particularly concerning given that the recent federal budget imposed additional taxes on the export industry, frustrating industry leaders and trade organizations. The textile sector, responsible for over 60% of Pakistan's exports, exemplifies the challenges. The knitwear industry, a major p...

غریدہ کی زرد صحافت

 




تحریر : عامر بیگ 
بڑے لوگوں سے سنا ہے کہ کچھ پیشوں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ عبادت کے قریب قریب ہوتے ہیں۔ 
ایسے ہی شعبوں میں صحافت ایک شعبہ ہے۔ 
مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے کرپٹ مافیا نے ہر شعبے میں اپنے اپنے لے پالک بٹھا رکھے ہیں۔ 
یہ لوگ صرف اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے نہ ملک پر رحم کرتے اور نہ ہی غریب عوام کا کوئی خیال کرتے ہیں۔ 
کیونکہ کرپٹ مافیا حکومت میں ہو یا نہ ہو وہ کرپٹ دولت کے ذریعے ان کو قابو رکھتا ہے۔ اور اپنی حکومتوں میں 
ان صحافیوں کو غیر ملکی دوروں پر ساتھ لے کے جاتے تھے۔ اور مہنگے مہنگے تحفے بھی دلوائے جاتے تھے۔ اس کام میں ہمیشہ کی طرح ن لیگ سبقت لے گئی۔ ن لیگ کی کرپشن کو تو ایک طرف رکھیں۔ جو حرکت ن لیگ نے اس قوم کی اخلاقیات تباہ کر کے کی ہے۔ صرف اسی گھٹیا حرکت کی وجہ سے ن لیگ کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ 
ن لیگ ہی وہ جماعت ہے جس نے ملک پاکستان میں چھانگا مانگا کی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کا غلیظ ترین کام کا آغاز کیا۔ پھر ان کے دیکھا دیکھی دوسری جماعتوں نے بھی یہی غلط کام کیا۔ 
ن لیگ نے ہی صحافت کے بڑے حصے کو غلاظت کردیا۔ ۔
کیا دور تھا ن لیگ بھاری بھر کم صحافیوں کے گروپ بیرون ملک  لے کر صرف عوام کے پیسے سے عیاشیاں کرواتے تھے۔ 
ان صحافیوں کے ٹولے میں ایک نام ہے جناب محترمہ غریدہ کا۔ 
یہ خاتون ٹی وی پر آپ کو بہت بڑے بڑے بھاشن دیتی نظر آئے گی۔ مگر کہنے والے کہتے ہیں۔   اسکی ڈوریں 
ن لیگی میڈیا سیل سے ہلائی جاتی ہیں۔ یہ خاتون 
شہبازشریف کے قریب قریب اکثر دیکھی گئی ہیں۔ نہ صرف دیکھی گئی ہیں۔ بلکہ اپنے ٹی وی پروگرامز میں بھی شہبازشریف کی تعریفیں کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مگر کبھی بھی اس خاتون نے شہبازشریف اور نوازشریف کے خلاف تھوڑی بہت بات کے علاؤہ کبھی کچھ نہیں بولا۔ 
مریم نواز کی ایک آڈیو لیک ہوتی ہے۔ جس میں موصوفہ کہتی ہیں دیکھی میری میڈیا مینیجمینٹ؟ 
اور آذربائیجانی ٹوکریاں صحافیوں کو دینے کی بات کرتی ہیں۔ 
جی بالکل غریدہ ایک ن لیگی ٹوکری ہی ہے۔ کیونکہ اس خاتون نے اپنے قول و فعل سے ثابت بھی کیا ہے۔ 
وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنانا اس بے شرم عورت کا روز اول سے ہی معمول ہے۔ 
وزیراعظم عمران خان نے اگر اپنے وزرا کی بہترین کارکردگی کے لیے مثبت مقابلہ سازی کا ماحول بنایا ہے تو اس سے ملک کا فایدہ ہے۔ مگر یہ غریدہ خاتون ہر بہتر کام کو بھی ایسے گھٹیا شاپر میں لپیٹ دیتی ہے۔ جس سے سارا اچھا کام ہی گندا نظر آنے لگتا ہے۔ 
حکومتی وزرا کی کارکردگی میں وفاقی وزیر مراد سعید اول نمبر پر رہے۔ ایک تو مراد سعید نے ن لیگ سے زیادہ کام کم وقت اور کم پیسے میں کیا۔ اور دوسرا ن لیگ کا ذریعہ آمدن سڑکیں بنا کر اس میں سے بڑا کمیشن کھانا بے نقاب کر کے رکھ دیا۔ مراد سعید سے ن لیگ کو تکلیف ہونی بھی چاہیے۔ اس شخص نے پوسٹ آفس جیسے کمزور ادارے کو نقصان میں سے نکال کر منافع بخش بنا دیا ہے۔ اب لوگ یہ سوال تو ضرور کریں گے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی تجربہ کار جماعتوں کا دعویٰ تو کرتی تھیں۔ مگر حقیقت میں
پہلی دفعہ منسٹر بننے والے وفاقی وزیر مراد سعید نے مواصلات اور پوسٹل سروسز کے محکموں میں انقلابی اقدامات کر کے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے تجربہ کار دعووں کی نفی کردی ہے۔ نیت ٹھیک اور محنت شاقہ ہو تو ہر کام کرنا ممکن ہے۔ غریدہ فاروقی بجائے کہ مراد سعید کے کام پر تنقید کرتی یا اس کی پالیسی سے اختلاف کرتی ۔ مگر اس خاتون نے محسن بیگ جیسے کارٹون سے بات کا آغاز گھٹیا کر کے کیا۔ 
بجائے کہ غریدہ خاتون محسن بیگ کو غلط بات کہنے سے روکتی۔ مگر غریدہ نے ن لیگی ٹوکری وصول کرنے کے الزامات کو تقویت دینا زیادہ مناسب سمجھا۔ 
اور ن لیگ کا پورا پورا حق ادا کیا۔ مریم نواز کی آڈیو لیک ہوتی ہے۔ جس میں وہ میر شکیل سے کہتی ہیں یہ تو غلط بات ہے آپ پی ٹی آئی اور ن لیگ دونوں کے موقف دکھارہے ہیں۔ آپکو صرف ن لیگ کی کارکردگی دکھانی چاہییے۔ کیونکہ عوام کو پی ٹی آئی کی کوئ بھی اچھی بات نہ سمجھ آ سکے۔ 
یہ ہے اس میڈیا کا گھٹیا چہرہ۔ 
آخر میں حکومت سے گزارش ہے۔ کہ جناب وزیراعظم عمران خان صاحب اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری صاحب جب تک آپ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنا کر غلیظ اور جھوٹی خبروں پر چینلز کو بھاری جرمانے اور ایک سالہ بندش نہیں کریں گے۔ یہ طوفان بدتمیزی یوں ہی چلتا رہے گا۔ جو ٹی وی چینل دو سال میں تین دفعہ جھوٹی خبر پھیلائے یا غیر اخلاقی گفتگو کروائے۔ یا پاک فوج اور عدلیہ کی توہین کا مرتکب ہو۔ 
تو پہلی غلطی پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جائے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ہفتے کے لیے چینل آف ائیر کردیا جائے۔ دوسری غلطی پر جرمانہ دس کروڑ کیا جائے اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں چینل ایک ماہ کے لیے آف ائیر کردیا جائے۔ اور اگر دوسال میں تیسری غلطی ہو تو جرمانہ ستر کروڑ کیا جائے ۔ اور چینل ایک سال کے لیے بند کردیا جائے۔ اگر حکومت اس طرح کے سخت اقدامات نہیں کرے گی۔ تو چاہے دودھ کی نہریں بھی بہا دیں۔ تو میڈیا صرف منفی خبروں سے ہی آپکی ساری کی ساری کارکردگی کو خاک کردے گا۔ ایک چھوٹی سی مثال پیش خدمت ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے پشاور میں بی آر ٹی پراجیکٹ شروع کیا۔ جس میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں۔ اور سیاسی اور میڈیا میں موجود ن لیگی ٹوکریاں اس پراجیکٹ کو ناکام اور برا منصوبہ بتا بتا کر عوام کو گمراہ کرتی رہیں۔ میڈیا کے منفی اثرات کیوجہ سے پی ٹی آئی پشاور سے بلدیاتی الیکشن ہار گئی۔ جس میں دوسری کئی وجوہات کے ساتھ ساتھ بی آر ٹی پشاور پر میڈیا کی منفی تصویر نے بیڑہ غرق کردیا۔ جبکہ حال ہی میں بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے بی آر ٹی پشاور دنیا کی ٹاپ تھری بس سروسز سسٹین ایبل کا ایوارڈ مل گیا۔ مگر حکومت کے بہترین کام کو جس کی بین الاقوامی ادارے تعریف کررہے ہیں۔ میڈیا نے اس کے خلاف اتنی دھول اڑائی کہ سب کچھ خاک آلود ہو گیا۔ 
پاکستان ذندہ باد ۔ 

Comments

Popular Posts