تحریر : عامر بیگ
صدارتی نظام آ رہا ہے۔ صدارتی نظام نہیں آئے گا۔ ایک سیاستدان نے کہا صدارتی نظام ہماری لاشوں پر گزرنے کے مترادف ہو گا۔ کسی نے کہا صدارتی نظام بننے سے ملک کی بقا کو خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا پر تواتر کے ساتھ یہ خبریں جاری ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سنجیدگی سے صدارتی نظام کے بارے میں غور کررہے ہیں۔ اور مجوزہ طریقے کار اور حکمت عملی کو بھی زیر بحث لایا جارہا ہے۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ سارا ماحول کیسے پیدا ہورہا ہے ؟
سب سے پہلے نظر ڈالتے ہیں کہ جمہوریت میں دو بڑے نظام دنیا بھر میں رائج ہیں۔ ایک پارلیمانی نظام جس میں حکومت کا سربراہ وزیرِ اعظم ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب صدارتی نظام میں اقتدار مکمل طاقت کے ساتھ صدر مملکت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
اب جائزہ لیتے ہیں کہ صدارتی نظام کی آوازیں آ کیوں رہی ہیں ؟
دنیا کا دستور ہے جب ایک نظام اپنی طاقت اور اہلیت کھو دیتا ہے تو اس کے بعد ہی دوسرے نظام کی آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ پارلیمانی نظام کے مخالفین کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام اتنا کمزور اور بوسیدہ ہے کہ اس سے بااثر افراد تو فایدہ لے سکتے ہیں۔ مگر عام عوام کو اس سے فایدہ اور بہتری ملنے کے امکانات انتہائی معمولی ہیں۔
پارلیمانی نظام میں اگر حقیقی اپوزیشن ہو جو عوامی مفادات کے خلاف اقدامات پر مزاحمت کرے تو پارلیمانی نظام عوام کو کچھ فایدہ ملنے کا امکان ہے۔ مگر گزشتہ ایک دہائی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر مک مکا کی سیاست اور لوٹ مار پر ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر سابقہ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن اور رحمان ملک ن لیگ کے خلاف انتہائی سنگین الزامات لگائے تھے۔ پھر ن لیگی رہنما چوہدری نثار نے پیپلز پارٹی کو دندان شکن جواب دیا۔ مگر پھر اپنی اپنی قیادت کے حکم پر دونوں نے خاموشی اختیار کر کے پارلیمانی نظام کو دنیا بھر میں مذاق بنا کر رکھ دیا۔
یہ پارلیمانی نظام ہی کی شکست تھی کہ سب لوگ
مل کر صرف ذاتی مفادات کی سیاست کررہے تھے۔ پچھلے ایک دہائی میں کسی بھی ایک بڑے مگر مچھ کو نہیں پکڑا گیا۔
کیونکہ اس نظام میں لوگوں کو بے وقوف بنانا انتہائی آسان ہے۔ ایک بندہ اٹھتا ہے وہ ووٹ کی عزت کے بارے میں بات کرتا ہے۔ مگر وہ بھی صرف اپنے ووٹ کی عزت بارے میں فکر مند ہے۔
دوسروں کے ووٹ کی عزت کرنا ان کو پسند نہیں ہے۔
کوئی بندہ اٹھتا ہے وہ جس کو چاہے
مسلم سے غیر مسلم قرار دے دے۔ جسکو چاہے یہودی بنادے۔ سب کچھ سیاسی مفادات کے لیے کیا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے لاکھ اختلافات کرلیے جائیں۔ مگر جس دلیری سے شان رسالت کا مقدمہ بین الاقوامی فورمز پر پیش کیا گیا اس کے لیے پوری دنیا سے تحسین آمیز پیغامات موصول ہوئے۔ حتی کہ غیرمسلم روسی صدر کو بھی توہین رسالت کے خلاف بیان دینا پڑا۔ مگر منافقت کی حد تو دیکھیے ہمارے ملک کے مذہبی سیاستدانوں نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ پتا نہیں یہ روز قیامت آقا مدنی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا سامنا کیسے کریں گے۔ اور کیسے اپنے اپنے سیاسی عذر پیش کریں گے۔
خیر بات ہورہی تھی پارلیمانی نظام کی۔ جو کہ ابھی تک بہتر نتائج نہیں دے سکا۔
اب بات کرتے ہیں۔ کیا صدارتی نظام بہتر نتائج دے سکے گا۔ ماضی میں بھی صدارتی نظام پاکستان میں آزمایا جا چکا ہے۔ تو اب کیسے یہ نظام بہتر عوامی خدمت کرسکے گا۔ تو صدارتی نظام کے حامی کہتے ہیں۔
صدارتی نظام
میں مکمل اختیار
صدر کے پاس ہوگا۔ اور وہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کی بلیک میلنگ سے محفوظ رہ کر بولڈ اور بہتر فیصلے کرسکے گا۔
صدارتی نظام میں کرپٹ افراد کو سزائیں مل سکیں گی اور بدلے میں ملک کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی نہیں ملیں گی۔
اسلیے صدارتی نظام اب آ کر ہی رہے گا۔ امکان یہی ہے کہ اگلا سیٹ اپ صدارتی ہو گا۔ جس میں صدر کے پاس وسیع اختیارات ہوں گے۔ اور کرپٹ افراد نشان عبرت بنیں گے۔ اور عوام کو بے شمار سہولیات کے ساتھ ساتھ شعور بھی دیا جائے گا۔ تاکہ عوام کرپٹ افراد کو برا سمجھیں۔
اب صدارتی نظام آتا ہے یا نہیں
اسکے لیے انتظار کرنا ہوگا۔
Comments
Post a Comment